منگلورو،20؍ مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) سابق وزیر اعلیٰ اور قائد اپوزیشن سدارامیا نے کہا کہ انہیں اسکولوں میں بھگود گیتا کی تعلیم پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ منگلورو انٹرنیشنل ایرپورٹ پر اپنی آمد پر انہوں نے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ مجھے بھگود گیتا پڑھانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ وہ چاہیں بھگود گیتا پڑھائیں یا قرآن یا بائبل ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ بچوں کو معیاری تعلیم ملے تا کہ وہ اس مسابقتی دنیا کے تقاضوں کی تکمیل کرسکیں۔ بچو ں کو معیاری تعلیم سے محروم نہیں کرنا چاہیے۔ بچوں کو گھر پر بھی بھگود گیتا، رامائن اور مہابھارت پڑھائی جاتی ہے۔ بچوں کو اخلاقی تعلیم دی جانی چاہیے۔“ انہوں نے کہا کہ ہم دستور اور سیکولرازم پر یقین رکھتے ہیں۔
کسی کو بھی دستور کے خلاف کام نہیں کرنا چاہیے۔ ملک تکثیری سماج پر یقین رکھتا ہے اور ہم آہنگی اور رواداری پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس نرم یا سخت گیر ہندوتوا پر یقین نہیں رکھتی۔ ہمارا بھی ہندو مذہب پر یقین ہے اور ملک میں تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں۔
“ حجاب پر ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف بند پر انہوں نے کہا کہ جو مطمئن نہیں ہیں،انہوں نے بند منایا۔ ہمیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنا چاہیے۔ مندروں کے میلوں کے دوران غیرہندوؤں کے کاروبار پر تحدیدات سے متعلق سوال پر سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسی بھی مذہب کے افراد کو فرقہ پرست نہیں ہونا چاہیے۔